حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یہ شعری پروگرام ایران اور دیگر ممالک کے ۲۵۰ سے زائد فارسی و غیر فارسی زبان شعرا کی شعر خوانی کے ساتھ مسلسل اڑتالیس گھنٹوں تک جاری رہا۔ اس پروگرام کا انعقاد 4 اور 5 جولائی 2026ء کو رہبرِ شہیدِ انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید(رح) کی تشییعِ جنازہ کی تقریبات کے سلسلے میں تہران آرٹس کونسل اور تہران میونسپلٹی کے ثقافتی و فنی ادارے کے اہتمام سے مصلیّٰ امام خمینی (رح) تہران میں کیا گیا۔
پروگرام میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے شاعر اہل بیت جناب مولانا ثاقب عباس نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔

اشعار ملاحظہ فرمائیں!
شعور و فکر و تدبر کی رمز خامنہ ای
وفورِ علم و شجاعت کی داستاں ہے یہ نام
ملی ہے اس کو علی و حسین کی ترکیب
اسی سبب سے پسندیدۂ جہاں ہے یہ نام
بہ دستِ پیرِ جماران تجھ تلک پہنچا
نشانِ دینِ خدا، بوتراب کا پرچم
نفاق و کفر کی بےرحم آندھیوں میں بھی
بلند تو نے رکھا انقلاب کا پرچم
تری غزل نے کیا فارسی کے لہجے میں
ہر ایک نظم کا عنوان اس طرح تبدیل
عِماد و یا علی و ذوالفقار وخُرَّمْشَہْر
شہاب و فاتح و فتّاح و خیبر و سِجِّیل
اس انقلاب پہ جتنی مصیبتیں ٹوٹیں
قدم قدم تری تدبیر کام آئی ہے
منافقت سے بھری عالمی سیاست میں
سیاستِ علوی کی جھلک دکھائی ہے
بموں کے شور میں اور گولیوں کی بارش میں
نماز و ذکر و تلاوت کا فیض ملتا ہے
اجل کی وحشی و پُراضطراب بستی میں
کسی کسی کو شہادت کا فیض ملتا ہے
سوالِ بیعتِ امریکہ؟ اتّباعِ یہود؟
کیا ہے تُو نے یزیدانِ وقت کو برباد
بالآخر اپنے مقدس لہو کے چھینٹوں سے
جبینِ وقت پہ لکھا حسینؑ زندہ آباد
از قلم: شاعر اہل بیت مولانا عباس ثاقبؔ









آپ کا تبصرہ